حیدرآباد میں ٹریفک کے مسائل
ٹریفک اوورلوڈ پاکستان میں تقریبا تمام بڑے شہروں کے لیے
ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہےلیکن حیدرآباد میں شدید ٹریفک سے متعلق مسائل کی وجہ سے
عوام کا دم گھٹ رہا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر کراچی میں بھی یہ مسئلہ شدت اختیار
کررہا ہے۔ جس میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ملک بھر سے لوگوں کی آمد کی شرح کے مقابلے
میں شہر میں بنیادی ترقی بہت کم نظر آ رہی ہے۔
اس طرح ٹریفک جام اور حادثات حیدرآباد کے لیے ایک معمول کی
بات بن چکی ہے۔ بدقسمتی سے شہر کے تمام بڑے روڈ اکثر ٹریفک جام کی وجہ سے بلاک
رہتے ہیں اور بہت کم لوگ سوچتے ہیں کہ یہ مسائل حیدرآباد ڈیولیمنٹ آتھارتی کی
ترجیح کا کام ہونا چاہیے۔ یہ ٹریفک جام کی خبر اخبار اور الیکٹرونک میڈیا میں بہت
دفعہ اٹھائی گی ہے۔
حیدرآباد ان ٹریفک جام گھنٹے کے لیے اکثر دفعہ جیسے جلوسوں
اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث یہ روڈ کافی کافی گھنٹوں منجمد دہتے ہیں اور لوگ اس
صورتحال سے پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنا قیمتی وقت اس روڈ پر ضائع کر رہے
ہوتے ہیں اور اپنی منزل مقصود پر مہنچنے میں دیر کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس
ٹریفک جام کی ایک وجہ دوکانوں کا حد سے زیادہ بڑھ جانا بھی ہے جس سے روڈ کی چوڑائی
کم ہوجاتی ہے اور ٹریفک کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اکثر جگہوں جیسے گل سینٹر وغیرہ میں نو پارکنگ ایریا بھی
روڈ پر ہے۔ جس سے ہر وقت ٹریفک مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ حیدرآباد میں چھٹی کے
اوقات کے دوران بد سے بدترین ٹریفک کے حالات بنے رہتے ہیں اور اس میں انتظامیہ کسی
بھی مستقبل کے نقطہ نظر نہیں آرہی۔
میری تجویز ہے کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے ایک
ذمہ دار شخص کے طور پر ہم دفتر کے اوقات میں ذاتی گاڑیوں کو استمعال کرنے سے اچھا
پبلک ٹرانسپورٹ کو استمعال کریں جیسے آپ چین میں دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں کے لوگ
دفتر جانے میں اپنی گاڑی کا استمعال نہیں کرتے وہ صرف مقامی ٹرینوں اور عوامی بسوں
کا استمعال کرتے ہیں اور ہمارے یہاں مقامی ٹرینوں کے ساتھ ساتھ اچھی بسوں کی سہولت
موجود نہیں ہے اس وجہ سے عوام اپنی ذاتی ٹرانسپورٹ کا استمعال کرتی ہے جس کی وجہ
سے ٹریفک بے تحشہ بڑھ رہی ہے۔
اس سلسلے میں حیدرآباد ڈیولپمینٹ آتھارتی کو چاہیے کہ اس
مسئلے کا کوئی حل نکالے اور اس نظام کو بہتر بنائے اور شہر کے زیادہ ٹریفک والے
علاقوں میں پارکنگ ایریا قائم کیے
جائیں۔