Sunday, 23 April 2017


علی اصغر 
2k14/MC/127
سندھ اور وفاق کے رمیان جاری کشمکش
سندھ اور وفاق کافی عرصے سے آپس میں مختلف تنازعات میں مبتلا ہے اور ہر روز کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہوتا ہے جس پر وفاقی کے ورزاء کا ر د عمل کچھ اور سندھ کے وزراء کا خیال کچھ اور دیکھائی دیتا ہیں اور یہ دونوں جانب کے خیالات کے درمیان ایک بڑا تضاد ہوتا ہیں ۔
اگر آپس میں تنازعات کا ذکر کیا جائے تو سندھ حکومت روزانہ اپنے ساتھ ہونے والے کسی مسئلے یا وفاق کی زیادتی کا رونا روتے دیکھتے ہیں اس میں ایک سب سے بڑا مسئلہ اور تنازء کیس کا ہیں یہ بات حقیقت ہے کہ سندھ ملک کو 70%گیس فراہم کر رہا ہیں لیکن اس سے حاصل ہونے والے فائدے کا 50%بھی فائدہ حاصل نہیں کر پڑھا اگر قانون کے مطابق بات کی جائے تو یہ سندھ کے ساتھ ایک بڑی حق تلفی ہیں اگر قانوناً دیکھا جائے تو پنجاپ کو ملنے والی گیس میں سے کمی کی جائی گی اور یہ سندھ کو فراہم کی جائیگی۔
اس کے علاوہ سندھ اور وفاق ہر تین چار مہینے بعد آپس میں بیانات کا مقابلا کرتے ہیں جس کا مقصد رینجرز کو اختیار یادینا یانہ دینا ہوتا ہے ، سندھ حکومت کہتی ہیں کہ رینجرز کو اختیارات دینے کی ضرورت نہیں لیکن وفاق اس بات پر جم جا تا ہے کہ اختیارات میں توسیع ہونی چاہیے سندھ حکمت کے تو اکثر وزراء وتو آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور وفاق کو خوب بڑا بھلا کہتے ہیں اس کے برعکس چوہدری نثار کے بیانات بھی میڈیا کی ذینت بنتی رہتی ہے جس میں رینجرزاختیارات توسیع کرنے پر زور دیتے ہیں۔
ایک اور مسئلہ پانی کا ہیں سندھ حکومت اس مسئلے پر وفاقی کے سامنے کئی بار اپنا احتجاج ریکارڈ کرواچکی ہیں اور وفاقی اس بارے میں کو ئی اقدام اُٹھانے سے کاصر ہیں جس کے باعث سندھ کا دریا خوشک ہوتے جا رہا ہے جس سے فصلوں کو شدید نقصان کا سامنا ہیں اور کسانوں کو پانی کی پریشانیوں کا سامنا ہیں سندھ حکومت خاص طور پر چیف منسٹر اس مسئلے کو کافی دفعہ اُتھا چکے ہیں لیکن وفاقی حکومت اور پنجاب اس مسئلے کا حل نہیں نکال سکے ہیں اس معاملے پر کافی روک ٹھوک ہوئی لیکن سندھ ابھی بھی پانی کی قلعت کا شکار ہے۔
سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور وفاقی کا بجٹ پنجاب پر خرچ کیا جاتا ہے سندھ میں کوئی پروجیکٹ تکمیل کے مراحل تک نہیں پہنچا ہے اور موٹروے حیدرآباد سے کراچی ہے وہ بھی ابھی تک نہ مکمل ہے اور موٹروے پر بھاری ٹول ٹیکس لگادیا گیا ہے ۔
وفاق اور سندھ کے درمیان ایک کشیدہ صورتحال پیدا ہیں جیسے مختلف طریقیوں سے حل کیا جاتا نہیں لیکن اس طرح کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

Friday, 31 March 2017

علی اصغر 
2k14/mc/127

صدر کنٹونمنٹ کے تاریخی مقامات

حیدرآباد میں بہت سی ایسی جگہیں موجود ہیں جن کا تعلق قدیم زمانہ سے ہے اگر خاص طورپر صدر کے علاقہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ قدیم شہر کی تصویر پیش کر تا ہے یہاں پربہت سی عمارتیں پرانے زمانے کی ہیں اُن میں سے اکثر تو سو ، دوسوں سال پرانی اور ابھی بھی اپنی ایک تاریخ حیثیت رکھتی ہے اسکے علاوہ اور بھی دوسری جگہیں جو اپنے آپ میں ایک حیثیت رکھتی ہے اُن میں سے بمبئی بیکری ، ریڈیو پاکستان ، اور بوہری بازارہے۔


بمبئی بیکری

بمبئی بیکری حیدرآباد سندھ میں صدر کے علاقے میں 1911میں جناب Pahaljraniگنگارام تھادانی نے اس بیکری کو قائم کیا حیدرآباد سندھ میں کنٹومنٹ کی اتھارٹٰ نے اس کے موجودہ مقام پر بیکری کو تعمیر کرنے کی اجازت دی اور یہ بیکری 1924میں مکمل تعمیر کی گئی اور اس بیکری میں مسلسل اور قائل نقط نظر رکھی گئی۔
اس بیکری کے آغاز سے لے کر موجودہ عمارت کی منصوبہ بندی کی اور بنگلو کو بیکری کے طور پر دیزائن کیا گیا اس بیکری میں بسکٹ اور اعلیٰ میعار کے کیک تیار کیے جاتے ہیں بمبئی بیکری کے کیک صرف حیدرآباد میں مشہور نہیں ہیں بلکہ سندھ کے دوسرے حصوں میں بھی مشہور ہیں بیکری ہفتے ے چھ دن کھلی ہوتی ہے اور جمعہ کے دن بند ہوتی ہے ۔
بمبئی بیکری کے اندر فرنیچر اور کاؤنٹر ساگون کی لکڑی سے بنا ہوا ہے اور عورتوں کے لیے مخصوص جگہ رکھی گئی ہے۔
بمبئی بیکری کے کیک کی معیار اور مقدار کی بات کرے تو کسٹمر کا کہنا ہے کہ بیکری کیک زیادہ مقدار میں نہیں بناتے بیکری کے مینجر عزیز محمد کا کہنا ہے کہ ہم معیار کو یقینی بنانے کیلئے محدود اسٹاک ہی تیار کرتے ہیں۔
بمبئی بیکری میں عید اور دوسرے تمام تہواروں پر یہاں لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آتی ہے اور ہر شخص نہ صر اپنے لئے بلکہ دوست احباب اور رشتے داروں کے لئے بھی لیتے ہیں ان تہواروں کے دنوں میں بھی کثیر تعداد ہونے کے بعد باعث ایک فرد کو صر ف دو ہی کیک دئیے جاتے ہیں اس کیک کا ذائقہ دوسرے تمام بیکریوں سے بہت بہتر اور عمدہ ہوت ہے جس کا شوقین ہر بچہ اور بڑا ہے۔

بوہری بازار

بوری بازار حیدرآباد کی قدیم ترین بازار ہے بوہری بازار کو پہلے سولجر بازار کے نام سے جانا جا تا تھا اور اب ڈاکٹر لائن کے طور پر جانتے ہیں۔
پہلے بوہری کمیونٹی نے اس بازار میں چند دکانیں تعمیر کی اس بازار میں انہوں نے ایک مسجد قائم کی 1824میں اپنی کمیونٹی کے لئے جس کا نام محمدی مسجد رکھا اس مسجد کی تعمیر ماموجی فیملی کیلئے تھی۔
بوہری کمیونٹی کے لوگ انڈیا، ٹھٹھہ ، اور میر پور خاص سے یہاں آئے اور اس کے بعد انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار بشروع کیا اس بازار میں ہر قسم کی دکانیں موجود ہیں مثلا : ہارڈوےئر ، پینٹ، ہتھیار، گارمنٹس، کراکری، ذراعت ، مشین، فرنیچر ، گلاس اور بہت سی دکانیں موجود ہیں۔
بوہری بازار میں 550رجسٹر دکانیں ہیں اس بازر میں صاف ستھرائے اور وسیع سڑک موجود ہے یہ بازار کنٹومنٹ میں واقع ہیں اس بازار میں کنٹومنٹ تھانہ بھی موجود ہے اور اس بازار کی مکمل طور پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے۔
اس بازار میں اندرون سندھ اسی طرح لاہور ، کراچی ، اور چین جیسی غیر ملکی ، ممالک سے اس بازار کا دورہ کرتے ہیں اور بوہری بازار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور وہرہ کمیونٹی کے لوگ یہاں اپنے کاروبار میں سچائی اور امن سے کام کرتے ہیں اور کسٹمر سے نرم دل اور خوش لہجے میں بات کرتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان حیدرآباد

17اگست 1955میں حیدرآباد کی قدیم عمارت جو جرمن ڈاکٹر ہوم اسٹیڈ کے نام سے منسوب تھی اس میں ایک کلو واٹ کا ٹرانسمیٹر رکھ کر ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں نصب کیا گیا یہ عمارت پکا قلعہ پر موجود تھی طوتل عرصے بعد ایک نئی عمارت کی ضرورت محسو س ہوئی تو حیدرآباد کی مختلف جگہوں کا جائزہ کیا گیا مگر شہر کے گنجان علاقوں سے قدرے دور اور پر فضاؤ ماحول کنٹونمنٹ کے علاقے میں اراضی انتخاب کیا گیا۔
اس عمارت کے داخلی دروازے کے دائیں جانب سنگ مر مر کی تختی پر انہی کے افتتاح کی تاریخ 28دسمبر 1962 ؁ء لکھی ہے اسی عمارت کا افتاح فیلڈ مارشل صدر پاکستان ایوب خان نے کیا تھا ۔
ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں جدیدے مشینوں سے آراستہ اسٹوڈیوز کے ذریعے کئے گئے پروگرام ترنیب دئے جانے لگے فن کاروں مزا کاروں لکھتا رہوں اور متعین عملے نے شب و روز محنت کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں دن میں پروگرام سے جڑے رہنے وہاں شام 5بجے سے رات ساڑھے10بجے پورے سندھ میں حیدرآباد ریڈیو کے سواء کسی دوسرے ریڈیو اسٹیشن کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔
ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے پروگراموں کا دور دور تک سنائی دیتا ہے ریڈیو پاکستان نے2008دوران ایف ایم 1593نشریات بھی منسلک کردی گئی اس ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں 40نئے نا صلاحیت نوجوانوں کی آوازوں کا انتخاب کہا جا تھا ہے جو گزشتہ 10سال میں کبھی کسی کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔
2016کے دوران اس ریڈیو میں نشریات کو مو اسلاتی جدید نظام سے منسلک کیا گیا پروگرام کو کپیوٹرائز اور ڈیجیٹلائز کیا گیا جس سے ریڈیو حیدرآباد کی نشریات دنیا کے 50ممالک میں سنی جاتی ہے ریڈیو کی عمارت کے ایک کمرے میں ریڈیو میوزیم قائم کیا جائے گا جس پیانو اور بڑیدو سمیت تمام آلات موسیقی ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں 6بنیادی شبع ہیں جس میں 65فیصدسندھی اور 35فیصد اردو زبان کے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔
ریڈیو پاکستان حیدرآباد نے ہمیشہ عوام کو آبیاری کی ہے انہیں بولنے کا سلقیہ دیا اور لوگوں کو معلومات کا خزینہ فراہم کیا۔

Sunday, 19 March 2017


حیدرآباد صدر میں اہم مسئلے
Blog: Main Issues of Saddar
علی اصغر
2k14/MC127

حیدرآباد سندھ کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور ملک کا ایک اہم تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے اس شہر میں کافی بڑی آبادی قیام پزیر ہے اسی طرح کا ایک علاقہ حیدرآاد میں صدر کا ہے یہ علاقہ کینٹومنٹ بورڈ کے انڈر ہی آتا ہے لیکن یہاں کے چند مسائل ایسے ہیں جو تشدت اختیار کر رہے ہیں۔
صدر میں ٹریفک کا جام ہونا ایک معمولی سی بات بن چکی ہے اور اگر کوئی صدر میں ٹریفک جام ہونے کے بعض ٹریفک میں پھس جاتاہے تو وہ کافی گھنٹو تک منجھد کر رہتا ہے اور اس صورتحال سے لوگ بہت پریشان ہوجاتے ہے وہ اپنا قیمتی وقت اس روڈ پر ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے منزل مقصود پر ٹائم پر نہیں پہنچ سکتے ہیں اس کے علاوہ صدر میں بہت دوکانوں کا حدسے زیادہ بڑھ جانا بھی ہے جس سے روڈ کی چوڑائی کم ہوجاتی ہے اور ٹریفک کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
صدر میں اسکول کی چھٹی کے اوقات میں بھی ٹریفک بدترین جام رہتا ہے اس میں کینٹومنٹ انتظامیہ کی کسی قسم کی ترقی نظر نہیں آرہی ۔
صدر کے لوگوں کی تجویز ہے کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے ایک ذمہ دار شخص کو رکھا جائے جو اس نظام کو بہتر طریقے سے چلا سکے اور عوام کو مشکلات کا سامنہ کرنا پڑے اور عوام کا وقت ضائع نہ ہو۔
اس کے علاوہ دوسری طرف دیکھا جائے تو یاں کی آبادی کو پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے جوایک مستقل مسئلہ بن گیا ہے یہاں کئی دن تک پانی نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے تو یہ وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے پینے کے استعمال میں لیا جائے جس کے باعث علاقہ مکین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور اکثر لوگ پریشان ہو کر پانی کا ٹینکر منگواتے ہیں جو ایک عام آدمی کی گنجائش سے باہر ہے ۔ لیکن پانی کا ٹینکر منگوانا کوئی مستقل حل نہیں ہے اس سلسلے میں کینٹو منٹ بورڈ سے متعدد دفعہ شکایت بھی کی گئی لیکن اس کا ازالہ نہیں کیا گیا اور کچھ عرصے پہلے نئی لائین بھی ڈالی گئی جس کا مقصد اس پریشانی کو ختم کرنا تھا اور یہ لائن علاقہ مکینوں نے خود آپس میں پیسے جمع کر کے ڈلوائی لیکن اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ اس کی وجہ بورڈ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی ہے پینے کے لیے صدر کے زیادہ تر لوگ بازار میں ملنے و الے گیلن خرید تے ہیں جس کی قیمت 20سے 300تک ہے اور لوگ انہیں خرید نے پر مجبور ہیں۔
صدر کے علاقے کا ایک بڑا مسئلہ یہاں پر موجود کچر کونڈیاں ہیں جو علاقے کو بدنامہ شکل دے رہے ہیں اور اس مسئلہ کے زمہ دار کینٹومنٹ بورڈ ہی نہیں بلکہ علاقہ مکین بھی ہیں جنہوں نے مختلف گلیوں کے کونے پر جگہ جگہ کچرے خانے بنائے ہوئے ہیں اور اپنے گھر کا تمام کچرا ان کونوں پر پھینکتے ہیں۔
جیسے کینٹومنٹ بورڈ نہ ساہے طریقے سے اوٹھتا ہے اور نہ ان کچرا پھیکنے والوں کے خالف کوئی ایکشن لیتے ہیں اکثر اس کچرے کی وجہ سے گٹر بھی چوک ہوجاتے ہیں جس سے پانی روڈ پر آجاتا ہے اور اس لئے بہت ساری بیماریاں پھیلتی ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کینٹومنٹ بورڈ ایک اچھا ادارا تھا لیکن اب اس کی چند لاپروائیاں علاقہ مکینوں کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں کینٹومنٹ بورڈ کو چاہیے کہ اپنی ان خامیوں کو درست کر ے اور علاقہ میں کچرے کے لیے مخصوص ڈبے رکھوائے اور پانی کی فراہمی کے لیے مستقل حل کرے اس کے علاوہ علاقہ کے ایک بڑے مسئلے کو بھی حل کر ے جس کا تعلق ناجائز پارکنگ سے ہے تاکہ یہ کثیز آمدرفت والا علاقہ لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے انہیں سہولیات فراہم کرے۔

Sunday, 5 March 2017



علی اصغر
2
K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
گورکھ ہل اسٹیشن کاسفر
صوبہ سندھ میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے اور یہ وادی مہران کی واحد اور بلند تفریحی اور پر فضا مقام ہے جہاں تمام پہاڑیاں برف سے ڈھک جاتی ہیں ۔ وادی مہران کا درجہ حرارت بہت ہی کم ہوتا ہے ۔ 
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔ 
وہاں ایک پاندی کے مقام پر ہم نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں میرے ایک دوست نے کہا کہ گورکھ ہل تک کا سفر کافی مشکل اور خطرناک ہے ۔ صرف گورکھ ہل تک 4x4 کی جیب ہی اوپر تک پہنچا سکتی ہے۔ تو ہم 6دوستوں نے وہاں سے 4x4کی جیب کرائے پر لی جس کا ڈرائیور بلوچی تھا اور سندھی بالکل روانی سے بولتا تھا جب کوئی خطرناک موڑ پر ڈرائیور ہماری سانسیں کو روکنے لگا تو اس کی مہارت کو دیکھ کر اس کو داد دینے کا جی چاہتا تھا یہاں سے دو گھنٹے پردشوار گزار اور خطرناک کھائیوں سفر ہے جو گورکھ ہل کی چھوٹی چوٹی تک لے جاتا ہے یہ نا ہموار سنگل روڈ ہے جو خشک موسمی برساتی چشموں کی جانب لے جاتا ہے.
 دونوں اطراف سیاہ چٹائی واقع ہے اور ہم ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں تو گزری ہوئی پہاڑیاں لمبی نظر آنے لگتی ہے ہر پہاڑی کی چوٹی میں ایک پوائنٹ موجود ہے وہاں ڈرائیور تھوڑا سا تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ اس پوائنٹ کے بعد جکردار سفر شروع ہوتا ہے اور بہت خطرناک رستے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈاھلوان شہراہ ایسے خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک مقامی ڈرائیور ہی گزار سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہاں سے گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرات میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے کچے پکے راستوں سے نکل کر آخر ہم غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل گورکھ ہل کی چوٹی میں پہنچ جاتے ہیں یقیناًوہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے ۔ 

گورکھ ہل کے ریسٹورنٹ میں گرم چائے پی کر ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھا اور اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہم بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے سامان رکھ کر غسل کرنے کے بعد واپس نیچے ریسٹورینٹ پہنچے اور کھانا کھایا اور چائے کی محفل سجی تو جنگل منگل کا سماں نظر آنے لگا اور گروپ فوٹو بھی لئے اور اس لئے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔ گورکھ ہل پر ہم نے چہل قدمی کی اور رات کے وقت کمروں میں جا کر آرام سے سو گئے اور صبح فجر کے وقت وہاں گئے اور وہاں کا دلفریب منظر ہماری سانسیں روک دیتا ہے اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے ۔ 


CcRT8JnW8AEwPaT.jpg
گورکھ ہل کی ٹھنڈی ہوا اور آسمان پر تیرتے بادلوں نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا گورکھ ہل کے اس مقام کو دیکھ کر ہم وہاں بھول ہی گئے کہ یہ سندھ ہے یا کوئی باہر کا ملک ہے اس خوبصورتی لمحات کو ہم دوستوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور وقت کا احساس بھی نہ ہوا وہاں کافی ٹھنڈی محسوس ہونے لگی تو کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لئے ۔ 
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔ 
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔
علی اصغر 
2
K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
گورکھ ہل اسٹیشن کاسفر
صوبہ سندھ میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے اور یہ وادی مہران کی واحد اور بلند تفریحی اور پر فضا مقام ہے جہاں تمام پہاڑیاں برف سے ڈھک جاتی ہیں ۔ وادی مہران کا درجہ حرارت بہت ہی کم ہوتا ہے ۔ 
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔ 
وہاں ایک پاندی کے مقام پر ہم نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں میرے ایک دوست نے کہا کہ گورکھ ہل تک کا سفر کافی مشکل اور خطرناک ہے ۔ صرف گورکھ ہل تک 4x4 کی جیب ہی اوپر تک پہنچا سکتی ہے۔ تو ہم 6دوستوں نے وہاں سے 4x4کی جیب کرائے پر لی جس کا ڈرائیور بلوچی تھا اور سندھی بالکل روانی سے بولتا تھا جب کوئی خطرناک موڑ پر ڈرائیور ہماری سانسیں کو روکنے لگا تو اس کی مہارت کو دیکھ کر اس کو داد دینے کا جی چاہتا تھا یہاں سے دو گھنٹے پردشوار گزار اور خطرناک کھائیوں سفر ہے جو گورکھ ہل کی چھوٹی چوٹی تک لے جاتا ہے یہ نا ہموار سنگل روڈ ہے جو خشک موسمی برساتی چشموں کی جانب لے جاتا ہے.
 دونوں اطراف سیاہ چٹائی واقع ہے اور ہم ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں تو گزری ہوئی پہاڑیاں لمبی نظر آنے لگتی ہے ہر پہاڑی کی چوٹی میں ایک پوائنٹ موجود ہے وہاں ڈرائیور تھوڑا سا تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ اس پوائنٹ کے بعد جکردار سفر شروع ہوتا ہے اور بہت خطرناک رستے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈاھلوان شہراہ ایسے خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک مقامی ڈرائیور ہی گزار سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہاں سے گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرات میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے کچے پکے راستوں سے نکل کر آخر ہم غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل گورکھ ہل کی چوٹی میں پہنچ جاتے ہیں یقیناًوہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے ۔ 

گورکھ ہل کے ریسٹورنٹ میں گرم چائے پی کر ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھا اور اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہم بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے سامان رکھ کر غسل کرنے کے بعد واپس نیچے ریسٹورینٹ پہنچے اور کھانا کھایا اور چائے کی محفل سجی تو جنگل منگل کا سماں نظر آنے لگا اور گروپ فوٹو بھی لئے اور اس لئے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔ گورکھ ہل پر ہم نے چہل قدمی کی اور رات کے وقت کمروں میں جا کر آرام سے سو گئے اور صبح فجر کے وقت وہاں گئے اور وہاں کا دلفریب منظر ہماری سانسیں روک دیتا ہے اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے ۔ 


CcRT8JnW8AEwPaT.jpg

گورکھ ہل کی ٹھنڈی ہوا اور آسمان پر تیرتے بادلوں نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا گورکھ ہل کے اس مقام کو دیکھ کر ہم وہاں بھول ہی گئے کہ یہ سندھ ہے یا کوئی باہر کا ملک ہے اس خوبصورتی لمحات کو ہم دوستوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور وقت کا احساس بھی نہ ہوا وہاں کافی ٹھنڈی محسوس ہونے لگی تو کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لئے ۔ 
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔ 
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔

Tuesday, 28 February 2017

علی اصغر 
2K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
گورکھ ہل اسٹیشن کاسفر

صوبہ سندھ میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے اور یہ وادی مہران کی واحد اور بلند تفریحی اور پر فضا مقام ہے جہاں تمام پہاڑیاں برف سے ڈھک جاتی ہیں ۔ وادی مہران کا درجہ حرارت بہت ہی کم ہوتا ہے ۔ 
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔ 
وہاں ایک پاندی کے مقام پر ہم نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں میرے ایک دوست نے کہا کہ گورکھ ہل تک کا سفر کافی مشکل اور خطرناک ہے ۔ صرف گورکھ ہل تک 4x4 کی جیب ہی اوپر تک پہنچا سکتی ہے۔ تو ہم 6دوستوں نے وہاں سے 4x4کی جیب کرائے پر لی جس کا ڈرائیور بلوچی تھا اور سندھی بالکل روانی سے بولتا تھا جب کوئی خطرناک موڑ پر ڈرائیور ہماری سانسیں کو روکنے لگا تو اس کی مہارت کو دیکھ کر اس کو داد دینے کا جی چاہتا تھا یہاں سے دو گھنٹے پردشوار گزار اور خطرناک کھائیوں سفر ہے جو گورکھ ہل کی چھوٹی چوٹی تک لے جاتا ہے یہ نا ہموار سنگل روڈ ہے جو خشک موسمی برساتی چشموں کی جانب لے جاتا ہے دونوں اطراف سیاہ چٹائی واقع ہے اور ہم ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں تو گزری ہوئی پہاڑیاں لمبی نظر آنے لگتی ہے ہر پہاڑی کی چوٹی میں ایک پوائنٹ موجود ہے وہاں ڈرائیور تھوڑا سا تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ اس پوائنٹ کے بعد جکردار سفر شروع ہوتا ہے اور بہت خطرناک رستے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈاھلوان شہراہ ایسے خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک مقامی ڈرائیور ہی گزار سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہاں سے گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرات میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے کچے پکے راستوں سے نکل کر آخر ہم غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل گورکھ ہل کی چوٹی میں پہنچ جاتے ہیں یقیناًوہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے ۔ 
گورکھ ہل کے ریسٹورنٹ میں گرم چائے پی کر ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھا اور اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہم بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے سامان رکھ کر غسل کرنے کے بعد واپس نیچے ریسٹورینٹ پہنچے اور کھانا کھایا اور چائے کی محفل سجی تو جنگل منگل کا سماں نظر آنے لگا اور گروپ فوٹو بھی لئے اور اس لئے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔ گورکھ ہل پر ہم نے چہل قدمی کی اور رات کے وقت کمروں میں جا کر آرام سے سو گئے اور صبح فجر کے وقت وہاں گئے اور وہاں کا دلفریب منظر ہماری سانسیں روک دیتا ہے اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے ۔ 
گورکھ ہل کی ٹھنڈی ہوا اور آسمان پر تیرتے بادلوں نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا گورکھ ہل کے اس مقام کو دیکھ کر ہم وہاں بھول ہی گئے کہ یہ سندھ ہے یا کوئی باہر کا ملک ہے اس خوبصورتی لمحات کو ہم دوستوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور وقت کا احساس بھی نہ ہوا وہاں کافی ٹھنڈی محسوس ہونے لگی تو کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لئے ۔ 
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔ 
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔