علی اصغر
2k14/mc/127
صدر کنٹونمنٹ کے تاریخی مقامات
حیدرآباد میں بہت سی ایسی جگہیں موجود ہیں جن کا تعلق قدیم زمانہ سے ہے اگر خاص طورپر صدر کے علاقہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ قدیم شہر کی تصویر پیش کر تا ہے یہاں پربہت سی عمارتیں پرانے زمانے کی ہیں اُن میں سے اکثر تو سو ، دوسوں سال پرانی اور ابھی بھی اپنی ایک تاریخ حیثیت رکھتی ہے اسکے علاوہ اور بھی دوسری جگہیں جو اپنے آپ میں ایک حیثیت رکھتی ہے اُن میں سے بمبئی بیکری ، ریڈیو پاکستان ، اور بوہری بازارہے۔
بمبئی بیکری
بمبئی بیکری حیدرآباد سندھ میں صدر کے علاقے میں 1911میں جناب Pahaljraniگنگارام تھادانی نے اس بیکری کو قائم کیا حیدرآباد سندھ میں کنٹومنٹ کی اتھارٹٰ نے اس کے موجودہ مقام پر بیکری کو تعمیر کرنے کی اجازت دی اور یہ بیکری 1924میں مکمل تعمیر کی گئی اور اس بیکری میں مسلسل اور قائل نقط نظر رکھی گئی۔
اس بیکری کے آغاز سے لے کر موجودہ عمارت کی منصوبہ بندی کی اور بنگلو کو بیکری کے طور پر دیزائن کیا گیا اس بیکری میں بسکٹ اور اعلیٰ میعار کے کیک تیار کیے جاتے ہیں بمبئی بیکری کے کیک صرف حیدرآباد میں مشہور نہیں ہیں بلکہ سندھ کے دوسرے حصوں میں بھی مشہور ہیں بیکری ہفتے ے چھ دن کھلی ہوتی ہے اور جمعہ کے دن بند ہوتی ہے ۔
بمبئی بیکری کے اندر فرنیچر اور کاؤنٹر ساگون کی لکڑی سے بنا ہوا ہے اور عورتوں کے لیے مخصوص جگہ رکھی گئی ہے۔
بمبئی بیکری کے کیک کی معیار اور مقدار کی بات کرے تو کسٹمر کا کہنا ہے کہ بیکری کیک زیادہ مقدار میں نہیں بناتے بیکری کے مینجر عزیز محمد کا کہنا ہے کہ ہم معیار کو یقینی بنانے کیلئے محدود اسٹاک ہی تیار کرتے ہیں۔
بمبئی بیکری میں عید اور دوسرے تمام تہواروں پر یہاں لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آتی ہے اور ہر شخص نہ صر اپنے لئے بلکہ دوست احباب اور رشتے داروں کے لئے بھی لیتے ہیں ان تہواروں کے دنوں میں بھی کثیر تعداد ہونے کے بعد باعث ایک فرد کو صر ف دو ہی کیک دئیے جاتے ہیں اس کیک کا ذائقہ دوسرے تمام بیکریوں سے بہت بہتر اور عمدہ ہوت ہے جس کا شوقین ہر بچہ اور بڑا ہے۔
بوہری بازار
بوری بازار حیدرآباد کی قدیم ترین بازار ہے بوہری بازار کو پہلے سولجر بازار کے نام سے جانا جا تا تھا اور اب ڈاکٹر لائن کے طور پر جانتے ہیں۔
پہلے بوہری کمیونٹی نے اس بازار میں چند دکانیں تعمیر کی اس بازار میں انہوں نے ایک مسجد قائم کی 1824میں اپنی کمیونٹی کے لئے جس کا نام محمدی مسجد رکھا اس مسجد کی تعمیر ماموجی فیملی کیلئے تھی۔
بوہری کمیونٹی کے لوگ انڈیا، ٹھٹھہ ، اور میر پور خاص سے یہاں آئے اور اس کے بعد انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار بشروع کیا اس بازار میں ہر قسم کی دکانیں موجود ہیں مثلا : ہارڈوےئر ، پینٹ، ہتھیار، گارمنٹس، کراکری، ذراعت ، مشین، فرنیچر ، گلاس اور بہت سی دکانیں موجود ہیں۔
بوہری بازار میں 550رجسٹر دکانیں ہیں اس بازر میں صاف ستھرائے اور وسیع سڑک موجود ہے یہ بازار کنٹومنٹ میں واقع ہیں اس بازار میں کنٹومنٹ تھانہ بھی موجود ہے اور اس بازار کی مکمل طور پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے۔
اس بازار میں اندرون سندھ اسی طرح لاہور ، کراچی ، اور چین جیسی غیر ملکی ، ممالک سے اس بازار کا دورہ کرتے ہیں اور بوہری بازار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور وہرہ کمیونٹی کے لوگ یہاں اپنے کاروبار میں سچائی اور امن سے کام کرتے ہیں اور کسٹمر سے نرم دل اور خوش لہجے میں بات کرتے ہیں۔
ریڈیو پاکستان حیدرآباد
17اگست 1955میں حیدرآباد کی قدیم عمارت جو جرمن ڈاکٹر ہوم اسٹیڈ کے نام سے منسوب تھی اس میں ایک کلو واٹ کا ٹرانسمیٹر رکھ کر ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں نصب کیا گیا یہ عمارت پکا قلعہ پر موجود تھی طوتل عرصے بعد ایک نئی عمارت کی ضرورت محسو س ہوئی تو حیدرآباد کی مختلف جگہوں کا جائزہ کیا گیا مگر شہر کے گنجان علاقوں سے قدرے دور اور پر فضاؤ ماحول کنٹونمنٹ کے علاقے میں اراضی انتخاب کیا گیا۔
اس عمارت کے داخلی دروازے کے دائیں جانب سنگ مر مر کی تختی پر انہی کے افتتاح کی تاریخ 28دسمبر 1962 ء لکھی ہے اسی عمارت کا افتاح فیلڈ مارشل صدر پاکستان ایوب خان نے کیا تھا ۔
ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں جدیدے مشینوں سے آراستہ اسٹوڈیوز کے ذریعے کئے گئے پروگرام ترنیب دئے جانے لگے فن کاروں مزا کاروں لکھتا رہوں اور متعین عملے نے شب و روز محنت کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں دن میں پروگرام سے جڑے رہنے وہاں شام 5بجے سے رات ساڑھے10بجے پورے سندھ میں حیدرآباد ریڈیو کے سواء کسی دوسرے ریڈیو اسٹیشن کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔
ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے پروگراموں کا دور دور تک سنائی دیتا ہے ریڈیو پاکستان نے2008دوران ایف ایم 1593نشریات بھی منسلک کردی گئی اس ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں 40نئے نا صلاحیت نوجوانوں کی آوازوں کا انتخاب کہا جا تھا ہے جو گزشتہ 10سال میں کبھی کسی کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔
2016کے دوران اس ریڈیو میں نشریات کو مو اسلاتی جدید نظام سے منسلک کیا گیا پروگرام کو کپیوٹرائز اور ڈیجیٹلائز کیا گیا جس سے ریڈیو حیدرآباد کی نشریات دنیا کے 50ممالک میں سنی جاتی ہے ریڈیو کی عمارت کے ایک کمرے میں ریڈیو میوزیم قائم کیا جائے گا جس پیانو اور بڑیدو سمیت تمام آلات موسیقی ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں 6بنیادی شبع ہیں جس میں 65فیصدسندھی اور 35فیصد اردو زبان کے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔
ریڈیو پاکستان حیدرآباد نے ہمیشہ عوام کو آبیاری کی ہے انہیں بولنے کا سلقیہ دیا اور لوگوں کو معلومات کا خزینہ فراہم کیا۔
Post photos properly. Radio Pakistan is not Saddar area
ReplyDelete