Sunday, 5 March 2017

علی اصغر 
2
K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
گورکھ ہل اسٹیشن کاسفر
صوبہ سندھ میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے اور یہ وادی مہران کی واحد اور بلند تفریحی اور پر فضا مقام ہے جہاں تمام پہاڑیاں برف سے ڈھک جاتی ہیں ۔ وادی مہران کا درجہ حرارت بہت ہی کم ہوتا ہے ۔ 
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔ 
وہاں ایک پاندی کے مقام پر ہم نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں میرے ایک دوست نے کہا کہ گورکھ ہل تک کا سفر کافی مشکل اور خطرناک ہے ۔ صرف گورکھ ہل تک 4x4 کی جیب ہی اوپر تک پہنچا سکتی ہے۔ تو ہم 6دوستوں نے وہاں سے 4x4کی جیب کرائے پر لی جس کا ڈرائیور بلوچی تھا اور سندھی بالکل روانی سے بولتا تھا جب کوئی خطرناک موڑ پر ڈرائیور ہماری سانسیں کو روکنے لگا تو اس کی مہارت کو دیکھ کر اس کو داد دینے کا جی چاہتا تھا یہاں سے دو گھنٹے پردشوار گزار اور خطرناک کھائیوں سفر ہے جو گورکھ ہل کی چھوٹی چوٹی تک لے جاتا ہے یہ نا ہموار سنگل روڈ ہے جو خشک موسمی برساتی چشموں کی جانب لے جاتا ہے.
 دونوں اطراف سیاہ چٹائی واقع ہے اور ہم ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں تو گزری ہوئی پہاڑیاں لمبی نظر آنے لگتی ہے ہر پہاڑی کی چوٹی میں ایک پوائنٹ موجود ہے وہاں ڈرائیور تھوڑا سا تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ اس پوائنٹ کے بعد جکردار سفر شروع ہوتا ہے اور بہت خطرناک رستے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈاھلوان شہراہ ایسے خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک مقامی ڈرائیور ہی گزار سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہاں سے گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرات میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے کچے پکے راستوں سے نکل کر آخر ہم غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل گورکھ ہل کی چوٹی میں پہنچ جاتے ہیں یقیناًوہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے ۔ 

گورکھ ہل کے ریسٹورنٹ میں گرم چائے پی کر ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھا اور اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہم بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے سامان رکھ کر غسل کرنے کے بعد واپس نیچے ریسٹورینٹ پہنچے اور کھانا کھایا اور چائے کی محفل سجی تو جنگل منگل کا سماں نظر آنے لگا اور گروپ فوٹو بھی لئے اور اس لئے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔ گورکھ ہل پر ہم نے چہل قدمی کی اور رات کے وقت کمروں میں جا کر آرام سے سو گئے اور صبح فجر کے وقت وہاں گئے اور وہاں کا دلفریب منظر ہماری سانسیں روک دیتا ہے اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے ۔ 


CcRT8JnW8AEwPaT.jpg

گورکھ ہل کی ٹھنڈی ہوا اور آسمان پر تیرتے بادلوں نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا گورکھ ہل کے اس مقام کو دیکھ کر ہم وہاں بھول ہی گئے کہ یہ سندھ ہے یا کوئی باہر کا ملک ہے اس خوبصورتی لمحات کو ہم دوستوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور وقت کا احساس بھی نہ ہوا وہاں کافی ٹھنڈی محسوس ہونے لگی تو کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لئے ۔ 
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔ 
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔

No comments:

Post a Comment