علی اصغر
2K14/MC/127 (BS- Final)
بلاگ: نجی اور سرکاری اسکول کی تعلیم
دنیا بھر میں تعلیم کو معاشرے کی انتہائی اہم ضرورت قرار دیا جاتا ہے ۔ اور اس کے لئے ہر قسم کے اقدام اٹھائے
جاتے ہیں کیونکہ تعلیم ہی کسی معاشرے کو ترقی کی اعلی منزلوں پر پہنچاتی ہے اس لئے سب سے پہلا اور ابتدائی
قدم اسکول کی تعلیم کو بہتر بنانا اور اسکول کی تعلیم کے ڈ ھانچے کو سدھارنہ ہے ۔ اس لحاظ سے پاکستانی اسکول میں
مو جودہ تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تو یہ بو سیدہ ہے جو بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کو مستقبل کا معیار بنانے کیبجائے ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا رہا ہے اور اس کے علاوہ نجی اور سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام کے فرق نے حالاتاور بدتر کر دیئے ہیں۔
تعلیم کو بچوں سے ہم عناصر کرنا مکمل طور پر ضروری ہے کے پہلے والدین کو بتانا چاہیئے کہ نجی اور سرکاری اسکولوں میں کیا فرقہے۔ نجی اسکول میں اچھی طرح کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ، سرکاری اسکول کے مقابلے میں ، سرکاری اسکول کے مقابلے میںنجی اسکولوں کی فیس زیادہ مہنگی ہے۔
پاکستان میں نجی اسکول میں لوگوں میں تعلیم حاصل کروانے کا رجحان زیادہ دکھائی دیتا ہے، سرکاری اسکول کی تعلیم کی حالت بہت خراب ہے جہاں پر طلبہ کو معیاری تعلیم میسر نہیں ہے۔ مین نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں کہ سرکاری اسکول کی حالت بہت خستہ ہے جس میں اساتذہ زیادہ تر غیر حاضر رہتے ہیں اور بچے عمارت کی خستہ حال اور آسمان تلے زیرِ تعلیم حاصلکر رہے ہیں اس لئے تو تعلیم سے محروم معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
سب جانتے ہیں کہ ہمارا نجی اورسرکاری اسکول کا تعلیمی نظام اور نصاب قو می امنگوں کا ترجمان بنتا ہے اور نہ ہی اسلامی اقدار کاعکاس ہوتا ہے یہی وجہ ہے کی نجی اور سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نصاب کی موجودگی میں اچھے طالبِ علم کی دریافت خواب اور خیالہو کر رہ گئی ہے طالب علم کو نجی اسکولوں میں انگلش میڈیم کی طرف زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور سرکاری اسکول میں اردو میڈیم کے چکرمیں ڈال کر اُن کی صلاحیتوں کو پھلنے نہیں دیا جاتا بلکہ اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو آگے سے باندھ دیا جاتا ہے ۔
اِن موجودہ دور میں حکومت کا فرض ہے کہ نجی اور سرکاری اسکول کی اجارہ داری ختم کر کے یکساں نصابِ تعلیم کے عمل کو سختی سے اچھا کرائیں اور اس عمل میں کو ئی خامی ہو تو اُسے دور کریں ۔ تعلیمی ماہریں اور دینی اسکالرز کی زیرِ نگرانی میں نجی اور سرکاری اسکولوں کےتعلیم کے نصاب کو اچھی طرح سے ترتیب دی جائے جو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ، فلاحی ریا ست کی ثقافتی اقدار کا آئینہ دار ہو اورنجی اور سرکاری اسکول کی تعلیم میں کوئی فرق محسوس نہ ہو ، دونوں میں یکساں تعلیم دی جائے تاکہ سرکاری اور نجی اسکول کا فرق ختم ہو۔
2K14/MC/127 (BS- Final)
بلاگ: نجی اور سرکاری اسکول کی تعلیم
دنیا بھر میں تعلیم کو معاشرے کی انتہائی اہم ضرورت قرار دیا جاتا ہے ۔ اور اس کے لئے ہر قسم کے اقدام اٹھائے
جاتے ہیں کیونکہ تعلیم ہی کسی معاشرے کو ترقی کی اعلی منزلوں پر پہنچاتی ہے اس لئے سب سے پہلا اور ابتدائی
قدم اسکول کی تعلیم کو بہتر بنانا اور اسکول کی تعلیم کے ڈ ھانچے کو سدھارنہ ہے ۔ اس لحاظ سے پاکستانی اسکول میں
مو جودہ تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تو یہ بو سیدہ ہے جو بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کو مستقبل کا معیار بنانے کیبجائے ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا رہا ہے اور اس کے علاوہ نجی اور سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام کے فرق نے حالاتاور بدتر کر دیئے ہیں۔
تعلیم کو بچوں سے ہم عناصر کرنا مکمل طور پر ضروری ہے کے پہلے والدین کو بتانا چاہیئے کہ نجی اور سرکاری اسکولوں میں کیا فرقہے۔ نجی اسکول میں اچھی طرح کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ، سرکاری اسکول کے مقابلے میں ، سرکاری اسکول کے مقابلے میںنجی اسکولوں کی فیس زیادہ مہنگی ہے۔
پاکستان میں نجی اسکول میں لوگوں میں تعلیم حاصل کروانے کا رجحان زیادہ دکھائی دیتا ہے، سرکاری اسکول کی تعلیم کی حالت بہت خراب ہے جہاں پر طلبہ کو معیاری تعلیم میسر نہیں ہے۔ مین نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں کہ سرکاری اسکول کی حالت بہت خستہ ہے جس میں اساتذہ زیادہ تر غیر حاضر رہتے ہیں اور بچے عمارت کی خستہ حال اور آسمان تلے زیرِ تعلیم حاصلکر رہے ہیں اس لئے تو تعلیم سے محروم معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
سب جانتے ہیں کہ ہمارا نجی اورسرکاری اسکول کا تعلیمی نظام اور نصاب قو می امنگوں کا ترجمان بنتا ہے اور نہ ہی اسلامی اقدار کاعکاس ہوتا ہے یہی وجہ ہے کی نجی اور سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نصاب کی موجودگی میں اچھے طالبِ علم کی دریافت خواب اور خیالہو کر رہ گئی ہے طالب علم کو نجی اسکولوں میں انگلش میڈیم کی طرف زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور سرکاری اسکول میں اردو میڈیم کے چکرمیں ڈال کر اُن کی صلاحیتوں کو پھلنے نہیں دیا جاتا بلکہ اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو آگے سے باندھ دیا جاتا ہے ۔
اِن موجودہ دور میں حکومت کا فرض ہے کہ نجی اور سرکاری اسکول کی اجارہ داری ختم کر کے یکساں نصابِ تعلیم کے عمل کو سختی سے اچھا کرائیں اور اس عمل میں کو ئی خامی ہو تو اُسے دور کریں ۔ تعلیمی ماہریں اور دینی اسکالرز کی زیرِ نگرانی میں نجی اور سرکاری اسکولوں کےتعلیم کے نصاب کو اچھی طرح سے ترتیب دی جائے جو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ، فلاحی ریا ست کی ثقافتی اقدار کا آئینہ دار ہو اورنجی اور سرکاری اسکول کی تعلیم میں کوئی فرق محسوس نہ ہو ، دونوں میں یکساں تعلیم دی جائے تاکہ سرکاری اور نجی اسکول کا فرق ختم ہو۔
No comments:
Post a Comment