حیدرآباد صدر میں اہم مسئلے
Blog: Main Issues of Saddar
علی اصغر
2k14/MC127
حیدرآباد سندھ کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور ملک کا ایک اہم تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے اس شہر میں کافی بڑی آبادی قیام پزیر ہے اسی طرح کا ایک علاقہ حیدرآاد میں صدر کا ہے یہ علاقہ کینٹومنٹ بورڈ کے انڈر ہی آتا ہے لیکن یہاں کے چند مسائل ایسے ہیں جو تشدت اختیار کر رہے ہیں۔
صدر میں ٹریفک کا جام ہونا ایک معمولی سی بات بن چکی ہے اور اگر کوئی صدر میں ٹریفک جام ہونے کے بعض ٹریفک میں پھس جاتاہے تو وہ کافی گھنٹو تک منجھد کر رہتا ہے اور اس صورتحال سے لوگ بہت پریشان ہوجاتے ہے وہ اپنا قیمتی وقت اس روڈ پر ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے منزل مقصود پر ٹائم پر نہیں پہنچ سکتے ہیں اس کے علاوہ صدر میں بہت دوکانوں کا حدسے زیادہ بڑھ جانا بھی ہے جس سے روڈ کی چوڑائی کم ہوجاتی ہے اور ٹریفک کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
صدر میں اسکول کی چھٹی کے اوقات میں بھی ٹریفک بدترین جام رہتا ہے اس میں کینٹومنٹ انتظامیہ کی کسی قسم کی ترقی نظر نہیں آرہی ۔
صدر کے لوگوں کی تجویز ہے کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے ایک ذمہ دار شخص کو رکھا جائے جو اس نظام کو بہتر طریقے سے چلا سکے اور عوام کو مشکلات کا سامنہ کرنا پڑے اور عوام کا وقت ضائع نہ ہو۔
اس کے علاوہ دوسری طرف دیکھا جائے تو یاں کی آبادی کو پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے جوایک مستقل مسئلہ بن گیا ہے یہاں کئی دن تک پانی نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے تو یہ وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے پینے کے استعمال میں لیا جائے جس کے باعث علاقہ مکین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور اکثر لوگ پریشان ہو کر پانی کا ٹینکر منگواتے ہیں جو ایک عام آدمی کی گنجائش سے باہر ہے ۔ لیکن پانی کا ٹینکر منگوانا کوئی مستقل حل نہیں ہے اس سلسلے میں کینٹو منٹ بورڈ سے متعدد دفعہ شکایت بھی کی گئی لیکن اس کا ازالہ نہیں کیا گیا اور کچھ عرصے پہلے نئی لائین بھی ڈالی گئی جس کا مقصد اس پریشانی کو ختم کرنا تھا اور یہ لائن علاقہ مکینوں نے خود آپس میں پیسے جمع کر کے ڈلوائی لیکن اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ اس کی وجہ بورڈ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی ہے پینے کے لیے صدر کے زیادہ تر لوگ بازار میں ملنے و الے گیلن خرید تے ہیں جس کی قیمت 20سے 300تک ہے اور لوگ انہیں خرید نے پر مجبور ہیں۔
صدر کے علاقے کا ایک بڑا مسئلہ یہاں پر موجود کچر کونڈیاں ہیں جو علاقے کو بدنامہ شکل دے رہے ہیں اور اس مسئلہ کے زمہ دار کینٹومنٹ بورڈ ہی نہیں بلکہ علاقہ مکین بھی ہیں جنہوں نے مختلف گلیوں کے کونے پر جگہ جگہ کچرے خانے بنائے ہوئے ہیں اور اپنے گھر کا تمام کچرا ان کونوں پر پھینکتے ہیں۔
جیسے کینٹومنٹ بورڈ نہ ساہے طریقے سے اوٹھتا ہے اور نہ ان کچرا پھیکنے والوں کے خالف کوئی ایکشن لیتے ہیں اکثر اس کچرے کی وجہ سے گٹر بھی چوک ہوجاتے ہیں جس سے پانی روڈ پر آجاتا ہے اور اس لئے بہت ساری بیماریاں پھیلتی ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کینٹومنٹ بورڈ ایک اچھا ادارا تھا لیکن اب اس کی چند لاپروائیاں علاقہ مکینوں کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں کینٹومنٹ بورڈ کو چاہیے کہ اپنی ان خامیوں کو درست کر ے اور علاقہ میں کچرے کے لیے مخصوص ڈبے رکھوائے اور پانی کی فراہمی کے لیے مستقل حل کرے اس کے علاوہ علاقہ کے ایک بڑے مسئلے کو بھی حل کر ے جس کا تعلق ناجائز پارکنگ سے ہے تاکہ یہ کثیز آمدرفت والا علاقہ لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے انہیں سہولیات فراہم کرے۔
Attarctive headline, photos are required. its bit small, more words are needed
ReplyDelete