علی اصغر
2k14/MC/127
سندھ اور وفاق کے رمیان جاری کشمکش
سندھ اور وفاق کافی عرصے سے آپس میں مختلف تنازعات میں مبتلا ہے اور ہر روز کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہوتا ہے جس پر وفاقی کے ورزاء کا ر د عمل کچھ اور سندھ کے وزراء کا خیال کچھ اور دیکھائی دیتا ہیں اور یہ دونوں جانب کے خیالات کے درمیان ایک بڑا تضاد ہوتا ہیں ۔
اگر آپس میں تنازعات کا ذکر کیا جائے تو سندھ حکومت روزانہ اپنے ساتھ ہونے والے کسی مسئلے یا وفاق کی زیادتی کا رونا روتے دیکھتے ہیں اس میں ایک سب سے بڑا مسئلہ اور تنازء کیس کا ہیں یہ بات حقیقت ہے کہ سندھ ملک کو 70%گیس فراہم کر رہا ہیں لیکن اس سے حاصل ہونے والے فائدے کا 50%بھی فائدہ حاصل نہیں کر پڑھا اگر قانون کے مطابق بات کی جائے تو یہ سندھ کے ساتھ ایک بڑی حق تلفی ہیں اگر قانوناً دیکھا جائے تو پنجاپ کو ملنے والی گیس میں سے کمی کی جائی گی اور یہ سندھ کو فراہم کی جائیگی۔
اس کے علاوہ سندھ اور وفاق ہر تین چار مہینے بعد آپس میں بیانات کا مقابلا کرتے ہیں جس کا مقصد رینجرز کو اختیار یادینا یانہ دینا ہوتا ہے ، سندھ حکومت کہتی ہیں کہ رینجرز کو اختیارات دینے کی ضرورت نہیں لیکن وفاق اس بات پر جم جا تا ہے کہ اختیارات میں توسیع ہونی چاہیے سندھ حکمت کے تو اکثر وزراء وتو آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور وفاق کو خوب بڑا بھلا کہتے ہیں اس کے برعکس چوہدری نثار کے بیانات بھی میڈیا کی ذینت بنتی رہتی ہے جس میں رینجرزاختیارات توسیع کرنے پر زور دیتے ہیں۔
ایک اور مسئلہ پانی کا ہیں سندھ حکومت اس مسئلے پر وفاقی کے سامنے کئی بار اپنا احتجاج ریکارڈ کرواچکی ہیں اور وفاقی اس بارے میں کو ئی اقدام اُٹھانے سے کاصر ہیں جس کے باعث سندھ کا دریا خوشک ہوتے جا رہا ہے جس سے فصلوں کو شدید نقصان کا سامنا ہیں اور کسانوں کو پانی کی پریشانیوں کا سامنا ہیں سندھ حکومت خاص طور پر چیف منسٹر اس مسئلے کو کافی دفعہ اُتھا چکے ہیں لیکن وفاقی حکومت اور پنجاب اس مسئلے کا حل نہیں نکال سکے ہیں اس معاملے پر کافی روک ٹھوک ہوئی لیکن سندھ ابھی بھی پانی کی قلعت کا شکار ہے۔
سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور وفاقی کا بجٹ پنجاب پر خرچ کیا جاتا ہے سندھ میں کوئی پروجیکٹ تکمیل کے مراحل تک نہیں پہنچا ہے اور موٹروے حیدرآباد سے کراچی ہے وہ بھی ابھی تک نہ مکمل ہے اور موٹروے پر بھاری ٹول ٹیکس لگادیا گیا ہے ۔
وفاق اور سندھ کے درمیان ایک کشیدہ صورتحال پیدا ہیں جیسے مختلف طریقیوں سے حل کیا جاتا نہیں لیکن اس طرح کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔








