Sunday, 19 March 2017
حیدرآباد صدر میں اہم مسئلے
Blog: Main Issues of Saddar
علی اصغر
2k14/MC127
حیدرآباد سندھ کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور ملک کا ایک اہم تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے اس شہر میں کافی بڑی آبادی قیام پزیر ہے اسی طرح کا ایک علاقہ حیدرآاد میں صدر کا ہے یہ علاقہ کینٹومنٹ بورڈ کے انڈر ہی آتا ہے لیکن یہاں کے چند مسائل ایسے ہیں جو تشدت اختیار کر رہے ہیں۔
صدر میں ٹریفک کا جام ہونا ایک معمولی سی بات بن چکی ہے اور اگر کوئی صدر میں ٹریفک جام ہونے کے بعض ٹریفک میں پھس جاتاہے تو وہ کافی گھنٹو تک منجھد کر رہتا ہے اور اس صورتحال سے لوگ بہت پریشان ہوجاتے ہے وہ اپنا قیمتی وقت اس روڈ پر ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے منزل مقصود پر ٹائم پر نہیں پہنچ سکتے ہیں اس کے علاوہ صدر میں بہت دوکانوں کا حدسے زیادہ بڑھ جانا بھی ہے جس سے روڈ کی چوڑائی کم ہوجاتی ہے اور ٹریفک کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
صدر میں اسکول کی چھٹی کے اوقات میں بھی ٹریفک بدترین جام رہتا ہے اس میں کینٹومنٹ انتظامیہ کی کسی قسم کی ترقی نظر نہیں آرہی ۔
صدر کے لوگوں کی تجویز ہے کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے ایک ذمہ دار شخص کو رکھا جائے جو اس نظام کو بہتر طریقے سے چلا سکے اور عوام کو مشکلات کا سامنہ کرنا پڑے اور عوام کا وقت ضائع نہ ہو۔
اس کے علاوہ دوسری طرف دیکھا جائے تو یاں کی آبادی کو پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے جوایک مستقل مسئلہ بن گیا ہے یہاں کئی دن تک پانی نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے تو یہ وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے پینے کے استعمال میں لیا جائے جس کے باعث علاقہ مکین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور اکثر لوگ پریشان ہو کر پانی کا ٹینکر منگواتے ہیں جو ایک عام آدمی کی گنجائش سے باہر ہے ۔ لیکن پانی کا ٹینکر منگوانا کوئی مستقل حل نہیں ہے اس سلسلے میں کینٹو منٹ بورڈ سے متعدد دفعہ شکایت بھی کی گئی لیکن اس کا ازالہ نہیں کیا گیا اور کچھ عرصے پہلے نئی لائین بھی ڈالی گئی جس کا مقصد اس پریشانی کو ختم کرنا تھا اور یہ لائن علاقہ مکینوں نے خود آپس میں پیسے جمع کر کے ڈلوائی لیکن اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ اس کی وجہ بورڈ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی ہے پینے کے لیے صدر کے زیادہ تر لوگ بازار میں ملنے و الے گیلن خرید تے ہیں جس کی قیمت 20سے 300تک ہے اور لوگ انہیں خرید نے پر مجبور ہیں۔
صدر کے علاقے کا ایک بڑا مسئلہ یہاں پر موجود کچر کونڈیاں ہیں جو علاقے کو بدنامہ شکل دے رہے ہیں اور اس مسئلہ کے زمہ دار کینٹومنٹ بورڈ ہی نہیں بلکہ علاقہ مکین بھی ہیں جنہوں نے مختلف گلیوں کے کونے پر جگہ جگہ کچرے خانے بنائے ہوئے ہیں اور اپنے گھر کا تمام کچرا ان کونوں پر پھینکتے ہیں۔
جیسے کینٹومنٹ بورڈ نہ ساہے طریقے سے اوٹھتا ہے اور نہ ان کچرا پھیکنے والوں کے خالف کوئی ایکشن لیتے ہیں اکثر اس کچرے کی وجہ سے گٹر بھی چوک ہوجاتے ہیں جس سے پانی روڈ پر آجاتا ہے اور اس لئے بہت ساری بیماریاں پھیلتی ہیں۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کینٹومنٹ بورڈ ایک اچھا ادارا تھا لیکن اب اس کی چند لاپروائیاں علاقہ مکینوں کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں کینٹومنٹ بورڈ کو چاہیے کہ اپنی ان خامیوں کو درست کر ے اور علاقہ میں کچرے کے لیے مخصوص ڈبے رکھوائے اور پانی کی فراہمی کے لیے مستقل حل کرے اس کے علاوہ علاقہ کے ایک بڑے مسئلے کو بھی حل کر ے جس کا تعلق ناجائز پارکنگ سے ہے تاکہ یہ کثیز آمدرفت والا علاقہ لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے انہیں سہولیات فراہم کرے۔
Sunday, 5 March 2017
علی اصغر
2K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
2K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
گورکھ ہل اسٹیشن کاسفر
صوبہ سندھ میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں
موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے اور یہ وادی مہران کی واحد اور بلند تفریحی اور پر
فضا مقام ہے جہاں تمام پہاڑیاں برف سے ڈھک جاتی ہیں ۔ وادی مہران کا درجہ حرارت
بہت ہی کم ہوتا ہے ۔
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔
وہاں ایک پاندی کے مقام پر ہم نے اپنی
گاڑیاں کھڑی کردیں میرے ایک دوست نے کہا کہ گورکھ ہل تک کا سفر کافی مشکل اور خطرناک
ہے ۔ صرف گورکھ ہل تک 4x4 کی جیب ہی اوپر تک پہنچا سکتی ہے۔ تو ہم 6دوستوں نے وہاں سے 4x4کی جیب کرائے پر لی جس کا
ڈرائیور بلوچی تھا اور سندھی بالکل روانی سے بولتا تھا جب کوئی خطرناک موڑ پر
ڈرائیور ہماری سانسیں کو روکنے لگا تو اس کی مہارت کو دیکھ کر اس کو داد دینے کا
جی چاہتا تھا یہاں سے دو گھنٹے پردشوار گزار اور خطرناک کھائیوں سفر ہے جو گورکھ
ہل کی چھوٹی چوٹی تک لے جاتا ہے یہ نا ہموار سنگل روڈ ہے جو خشک موسمی برساتی
چشموں کی جانب لے جاتا ہے.

دونوں اطراف سیاہ چٹائی
واقع ہے اور ہم ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں تو گزری ہوئی پہاڑیاں لمبی نظر آنے
لگتی ہے ہر پہاڑی کی چوٹی میں ایک پوائنٹ موجود ہے وہاں ڈرائیور تھوڑا سا تازہ دم
ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ اس پوائنٹ کے بعد جکردار سفر شروع
ہوتا ہے اور بہت خطرناک رستے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈاھلوان شہراہ ایسے خطرناک
مقامات ہیں جہاں سے ایک مقامی ڈرائیور ہی گزار سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہاں سے
گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرات میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے
کچے پکے راستوں سے نکل کر آخر ہم غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل گورکھ ہل کی چوٹی میں
پہنچ جاتے ہیں یقیناًوہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے ۔

گورکھ ہل کے ریسٹورنٹ میں گرم چائے پی کر ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھا اور اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہم بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے سامان رکھ کر غسل کرنے کے بعد واپس نیچے ریسٹورینٹ پہنچے اور کھانا کھایا اور چائے کی محفل سجی تو جنگل منگل کا سماں نظر آنے لگا اور گروپ فوٹو بھی لئے اور اس لئے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔ گورکھ ہل پر ہم نے چہل قدمی کی اور رات کے وقت کمروں میں جا کر آرام سے سو گئے اور صبح فجر کے وقت وہاں گئے اور وہاں کا دلفریب منظر ہماری سانسیں روک دیتا ہے اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے ۔

گورکھ ہل کی ٹھنڈی ہوا اور آسمان پر تیرتے
بادلوں نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا گورکھ ہل کے اس مقام کو دیکھ کر ہم
وہاں بھول ہی گئے کہ یہ سندھ ہے یا کوئی باہر کا ملک ہے اس خوبصورتی لمحات کو ہم
دوستوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور وقت کا احساس بھی نہ ہوا وہاں کافی ٹھنڈی
محسوس ہونے لگی تو کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لئے ۔
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔
علی اصغر
2K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
2K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
گورکھ ہل اسٹیشن کاسفر
صوبہ سندھ میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں
موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے اور یہ وادی مہران کی واحد اور بلند تفریحی اور پر
فضا مقام ہے جہاں تمام پہاڑیاں برف سے ڈھک جاتی ہیں ۔ وادی مہران کا درجہ حرارت
بہت ہی کم ہوتا ہے ۔
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔
وہاں ایک پاندی کے مقام پر ہم نے اپنی
گاڑیاں کھڑی کردیں میرے ایک دوست نے کہا کہ گورکھ ہل تک کا سفر کافی مشکل اور
خطرناک ہے ۔ صرف گورکھ ہل تک 4x4 کی جیب ہی اوپر تک پہنچا سکتی ہے۔ تو ہم 6دوستوں نے وہاں سے 4x4کی جیب کرائے پر لی جس کا
ڈرائیور بلوچی تھا اور سندھی بالکل روانی سے بولتا تھا جب کوئی خطرناک موڑ پر
ڈرائیور ہماری سانسیں کو روکنے لگا تو اس کی مہارت کو دیکھ کر اس کو داد دینے کا
جی چاہتا تھا یہاں سے دو گھنٹے پردشوار گزار اور خطرناک کھائیوں سفر ہے جو گورکھ
ہل کی چھوٹی چوٹی تک لے جاتا ہے یہ نا ہموار سنگل روڈ ہے جو خشک موسمی برساتی
چشموں کی جانب لے جاتا ہے.

دونوں اطراف سیاہ چٹائی
واقع ہے اور ہم ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں تو گزری ہوئی پہاڑیاں لمبی نظر آنے
لگتی ہے ہر پہاڑی کی چوٹی میں ایک پوائنٹ موجود ہے وہاں ڈرائیور تھوڑا سا تازہ دم
ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ اس پوائنٹ کے بعد جکردار سفر شروع
ہوتا ہے اور بہت خطرناک رستے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈاھلوان شہراہ ایسے خطرناک
مقامات ہیں جہاں سے ایک مقامی ڈرائیور ہی گزار سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہاں سے
گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرات میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے
کچے پکے راستوں سے نکل کر آخر ہم غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل گورکھ ہل کی چوٹی میں
پہنچ جاتے ہیں یقیناًوہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے ۔

گورکھ ہل کے ریسٹورنٹ میں گرم چائے پی کر ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھا اور اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہم بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے سامان رکھ کر غسل کرنے کے بعد واپس نیچے ریسٹورینٹ پہنچے اور کھانا کھایا اور چائے کی محفل سجی تو جنگل منگل کا سماں نظر آنے لگا اور گروپ فوٹو بھی لئے اور اس لئے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔ گورکھ ہل پر ہم نے چہل قدمی کی اور رات کے وقت کمروں میں جا کر آرام سے سو گئے اور صبح فجر کے وقت وہاں گئے اور وہاں کا دلفریب منظر ہماری سانسیں روک دیتا ہے اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے ۔

گورکھ ہل کی ٹھنڈی ہوا اور آسمان پر تیرتے
بادلوں نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا گورکھ ہل کے اس مقام کو دیکھ کر ہم
وہاں بھول ہی گئے کہ یہ سندھ ہے یا کوئی باہر کا ملک ہے اس خوبصورتی لمحات کو ہم
دوستوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور وقت کا احساس بھی نہ ہوا وہاں کافی ٹھنڈی
محسوس ہونے لگی تو کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لئے ۔
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔
Tuesday, 28 February 2017
علی اصغر
2K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
2K14/MC/127
بلاک: گورکھ ہل کا سفر
گورکھ ہل اسٹیشن کاسفر
صوبہ سندھ میں ایک مقام ایسا بھی ہے جہاں
موسم سرما میں برف باری ہوتی ہے اور یہ وادی مہران کی واحد اور بلند تفریحی اور پر
فضا مقام ہے جہاں تمام پہاڑیاں برف سے ڈھک جاتی ہیں ۔ وادی مہران کا درجہ حرارت
بہت ہی کم ہوتا ہے ۔
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔
وہاں ایک پاندی کے مقام پر ہم نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں میرے ایک دوست نے کہا کہ گورکھ ہل تک کا سفر کافی مشکل اور خطرناک ہے ۔ صرف گورکھ ہل تک 4x4 کی جیب ہی اوپر تک پہنچا سکتی ہے۔ تو ہم 6دوستوں نے وہاں سے 4x4کی جیب کرائے پر لی جس کا ڈرائیور بلوچی تھا اور سندھی بالکل روانی سے بولتا تھا جب کوئی خطرناک موڑ پر ڈرائیور ہماری سانسیں کو روکنے لگا تو اس کی مہارت کو دیکھ کر اس کو داد دینے کا جی چاہتا تھا یہاں سے دو گھنٹے پردشوار گزار اور خطرناک کھائیوں سفر ہے جو گورکھ ہل کی چھوٹی چوٹی تک لے جاتا ہے یہ نا ہموار سنگل روڈ ہے جو خشک موسمی برساتی چشموں کی جانب لے جاتا ہے دونوں اطراف سیاہ چٹائی واقع ہے اور ہم ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں تو گزری ہوئی پہاڑیاں لمبی نظر آنے لگتی ہے ہر پہاڑی کی چوٹی میں ایک پوائنٹ موجود ہے وہاں ڈرائیور تھوڑا سا تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ اس پوائنٹ کے بعد جکردار سفر شروع ہوتا ہے اور بہت خطرناک رستے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈاھلوان شہراہ ایسے خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک مقامی ڈرائیور ہی گزار سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہاں سے گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرات میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے کچے پکے راستوں سے نکل کر آخر ہم غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل گورکھ ہل کی چوٹی میں پہنچ جاتے ہیں یقیناًوہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے ۔
گورکھ ہل کے ریسٹورنٹ میں گرم چائے پی کر ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھا اور اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہم بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے سامان رکھ کر غسل کرنے کے بعد واپس نیچے ریسٹورینٹ پہنچے اور کھانا کھایا اور چائے کی محفل سجی تو جنگل منگل کا سماں نظر آنے لگا اور گروپ فوٹو بھی لئے اور اس لئے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔ گورکھ ہل پر ہم نے چہل قدمی کی اور رات کے وقت کمروں میں جا کر آرام سے سو گئے اور صبح فجر کے وقت وہاں گئے اور وہاں کا دلفریب منظر ہماری سانسیں روک دیتا ہے اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے ۔
گورکھ ہل کی ٹھنڈی ہوا اور آسمان پر تیرتے بادلوں نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا گورکھ ہل کے اس مقام کو دیکھ کر ہم وہاں بھول ہی گئے کہ یہ سندھ ہے یا کوئی باہر کا ملک ہے اس خوبصورتی لمحات کو ہم دوستوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور وقت کا احساس بھی نہ ہوا وہاں کافی ٹھنڈی محسوس ہونے لگی تو کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لئے ۔
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔
گذشتہ دو ماہ پہلے وہاں جانے کا پروگرام بنا جس میں ہم 6دوست شامل تھے حیدرآباد سے صبح 10بجے روانہ ہوئے اور ہمارا اگلا اسٹاپ 12:30بجے دادو میں تھا ۔ وہاں ہم 6دوستوں نے قلندر ہوٹل میں کھانا کھایا ۔ کھانا تازہ اور خوش زائدہ کے ساتھ اسپیشل چائے کا بھی مزہ لیا۔ ظہر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد پھر دوبارہ عزم سفر شروع کیا۔ دادو سے گورخ ہل کا سفر تقریباً98کلو میٹر تھا۔
وہاں ایک پاندی کے مقام پر ہم نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں میرے ایک دوست نے کہا کہ گورکھ ہل تک کا سفر کافی مشکل اور خطرناک ہے ۔ صرف گورکھ ہل تک 4x4 کی جیب ہی اوپر تک پہنچا سکتی ہے۔ تو ہم 6دوستوں نے وہاں سے 4x4کی جیب کرائے پر لی جس کا ڈرائیور بلوچی تھا اور سندھی بالکل روانی سے بولتا تھا جب کوئی خطرناک موڑ پر ڈرائیور ہماری سانسیں کو روکنے لگا تو اس کی مہارت کو دیکھ کر اس کو داد دینے کا جی چاہتا تھا یہاں سے دو گھنٹے پردشوار گزار اور خطرناک کھائیوں سفر ہے جو گورکھ ہل کی چھوٹی چوٹی تک لے جاتا ہے یہ نا ہموار سنگل روڈ ہے جو خشک موسمی برساتی چشموں کی جانب لے جاتا ہے دونوں اطراف سیاہ چٹائی واقع ہے اور ہم ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں تو گزری ہوئی پہاڑیاں لمبی نظر آنے لگتی ہے ہر پہاڑی کی چوٹی میں ایک پوائنٹ موجود ہے وہاں ڈرائیور تھوڑا سا تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چیک کرتے ہیں ۔ اس پوائنٹ کے بعد جکردار سفر شروع ہوتا ہے اور بہت خطرناک رستے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ڈاھلوان شہراہ ایسے خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک مقامی ڈرائیور ہی گزار سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہاں سے گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرات میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے کچے پکے راستوں سے نکل کر آخر ہم غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل گورکھ ہل کی چوٹی میں پہنچ جاتے ہیں یقیناًوہاں پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ سندھ کا مری ہے ۔
گورکھ ہل کے ریسٹورنٹ میں گرم چائے پی کر ڈوبتے سورج کا نظارہ دیکھا اور اندھیرا پھیلنے کے ساتھ ہی ہم بھی گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے سامان رکھ کر غسل کرنے کے بعد واپس نیچے ریسٹورینٹ پہنچے اور کھانا کھایا اور چائے کی محفل سجی تو جنگل منگل کا سماں نظر آنے لگا اور گروپ فوٹو بھی لئے اور اس لئے ساتھ سیلفیاں بھی لیں ۔ گورکھ ہل پر ہم نے چہل قدمی کی اور رات کے وقت کمروں میں جا کر آرام سے سو گئے اور صبح فجر کے وقت وہاں گئے اور وہاں کا دلفریب منظر ہماری سانسیں روک دیتا ہے اور خطرناک کھائیوں کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے ۔
گورکھ ہل کی ٹھنڈی ہوا اور آسمان پر تیرتے بادلوں نے ایک افسانوی سا ماحول بنا رکھا تھا گورکھ ہل کے اس مقام کو دیکھ کر ہم وہاں بھول ہی گئے کہ یہ سندھ ہے یا کوئی باہر کا ملک ہے اس خوبصورتی لمحات کو ہم دوستوں نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا اور وقت کا احساس بھی نہ ہوا وہاں کافی ٹھنڈی محسوس ہونے لگی تو کانوں کو رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لئے ۔
رات چاند کی روشنی کے بعد صبح سورج کی روشنی میں گورکھ ہل کا حسن اور نکھر کر سامنے آرہا تھا ۔
گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار سفر تھا۔
Wednesday, 15 February 2017
علی اصغر
2K14/MC/127 (BS- Final)
بلاگ: نجی اور سرکاری اسکول کی تعلیم
دنیا بھر میں تعلیم کو معاشرے کی انتہائی اہم ضرورت قرار دیا جاتا ہے ۔ اور اس کے لئے ہر قسم کے اقدام اٹھائے
جاتے ہیں کیونکہ تعلیم ہی کسی معاشرے کو ترقی کی اعلی منزلوں پر پہنچاتی ہے اس لئے سب سے پہلا اور ابتدائی
قدم اسکول کی تعلیم کو بہتر بنانا اور اسکول کی تعلیم کے ڈ ھانچے کو سدھارنہ ہے ۔ اس لحاظ سے پاکستانی اسکول میں
مو جودہ تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تو یہ بو سیدہ ہے جو بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کو مستقبل کا معیار بنانے کیبجائے ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا رہا ہے اور اس کے علاوہ نجی اور سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام کے فرق نے حالاتاور بدتر کر دیئے ہیں۔
تعلیم کو بچوں سے ہم عناصر کرنا مکمل طور پر ضروری ہے کے پہلے والدین کو بتانا چاہیئے کہ نجی اور سرکاری اسکولوں میں کیا فرقہے۔ نجی اسکول میں اچھی طرح کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ، سرکاری اسکول کے مقابلے میں ، سرکاری اسکول کے مقابلے میںنجی اسکولوں کی فیس زیادہ مہنگی ہے۔
پاکستان میں نجی اسکول میں لوگوں میں تعلیم حاصل کروانے کا رجحان زیادہ دکھائی دیتا ہے، سرکاری اسکول کی تعلیم کی حالت بہت خراب ہے جہاں پر طلبہ کو معیاری تعلیم میسر نہیں ہے۔ مین نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں کہ سرکاری اسکول کی حالت بہت خستہ ہے جس میں اساتذہ زیادہ تر غیر حاضر رہتے ہیں اور بچے عمارت کی خستہ حال اور آسمان تلے زیرِ تعلیم حاصلکر رہے ہیں اس لئے تو تعلیم سے محروم معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
سب جانتے ہیں کہ ہمارا نجی اورسرکاری اسکول کا تعلیمی نظام اور نصاب قو می امنگوں کا ترجمان بنتا ہے اور نہ ہی اسلامی اقدار کاعکاس ہوتا ہے یہی وجہ ہے کی نجی اور سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نصاب کی موجودگی میں اچھے طالبِ علم کی دریافت خواب اور خیالہو کر رہ گئی ہے طالب علم کو نجی اسکولوں میں انگلش میڈیم کی طرف زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور سرکاری اسکول میں اردو میڈیم کے چکرمیں ڈال کر اُن کی صلاحیتوں کو پھلنے نہیں دیا جاتا بلکہ اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو آگے سے باندھ دیا جاتا ہے ۔
اِن موجودہ دور میں حکومت کا فرض ہے کہ نجی اور سرکاری اسکول کی اجارہ داری ختم کر کے یکساں نصابِ تعلیم کے عمل کو سختی سے اچھا کرائیں اور اس عمل میں کو ئی خامی ہو تو اُسے دور کریں ۔ تعلیمی ماہریں اور دینی اسکالرز کی زیرِ نگرانی میں نجی اور سرکاری اسکولوں کےتعلیم کے نصاب کو اچھی طرح سے ترتیب دی جائے جو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ، فلاحی ریا ست کی ثقافتی اقدار کا آئینہ دار ہو اورنجی اور سرکاری اسکول کی تعلیم میں کوئی فرق محسوس نہ ہو ، دونوں میں یکساں تعلیم دی جائے تاکہ سرکاری اور نجی اسکول کا فرق ختم ہو۔
2K14/MC/127 (BS- Final)
بلاگ: نجی اور سرکاری اسکول کی تعلیم
دنیا بھر میں تعلیم کو معاشرے کی انتہائی اہم ضرورت قرار دیا جاتا ہے ۔ اور اس کے لئے ہر قسم کے اقدام اٹھائے
جاتے ہیں کیونکہ تعلیم ہی کسی معاشرے کو ترقی کی اعلی منزلوں پر پہنچاتی ہے اس لئے سب سے پہلا اور ابتدائی
قدم اسکول کی تعلیم کو بہتر بنانا اور اسکول کی تعلیم کے ڈ ھانچے کو سدھارنہ ہے ۔ اس لحاظ سے پاکستانی اسکول میں
مو جودہ تعلیمی نظام کو دیکھا جائے تو یہ بو سیدہ ہے جو بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کو مستقبل کا معیار بنانے کیبجائے ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا رہا ہے اور اس کے علاوہ نجی اور سرکاری اسکولوں کے تعلیمی نظام کے فرق نے حالاتاور بدتر کر دیئے ہیں۔
تعلیم کو بچوں سے ہم عناصر کرنا مکمل طور پر ضروری ہے کے پہلے والدین کو بتانا چاہیئے کہ نجی اور سرکاری اسکولوں میں کیا فرقہے۔ نجی اسکول میں اچھی طرح کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ، سرکاری اسکول کے مقابلے میں ، سرکاری اسکول کے مقابلے میںنجی اسکولوں کی فیس زیادہ مہنگی ہے۔
پاکستان میں نجی اسکول میں لوگوں میں تعلیم حاصل کروانے کا رجحان زیادہ دکھائی دیتا ہے، سرکاری اسکول کی تعلیم کی حالت بہت خراب ہے جہاں پر طلبہ کو معیاری تعلیم میسر نہیں ہے۔ مین نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں کہ سرکاری اسکول کی حالت بہت خستہ ہے جس میں اساتذہ زیادہ تر غیر حاضر رہتے ہیں اور بچے عمارت کی خستہ حال اور آسمان تلے زیرِ تعلیم حاصلکر رہے ہیں اس لئے تو تعلیم سے محروم معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
سب جانتے ہیں کہ ہمارا نجی اورسرکاری اسکول کا تعلیمی نظام اور نصاب قو می امنگوں کا ترجمان بنتا ہے اور نہ ہی اسلامی اقدار کاعکاس ہوتا ہے یہی وجہ ہے کی نجی اور سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نصاب کی موجودگی میں اچھے طالبِ علم کی دریافت خواب اور خیالہو کر رہ گئی ہے طالب علم کو نجی اسکولوں میں انگلش میڈیم کی طرف زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور سرکاری اسکول میں اردو میڈیم کے چکرمیں ڈال کر اُن کی صلاحیتوں کو پھلنے نہیں دیا جاتا بلکہ اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو آگے سے باندھ دیا جاتا ہے ۔
اِن موجودہ دور میں حکومت کا فرض ہے کہ نجی اور سرکاری اسکول کی اجارہ داری ختم کر کے یکساں نصابِ تعلیم کے عمل کو سختی سے اچھا کرائیں اور اس عمل میں کو ئی خامی ہو تو اُسے دور کریں ۔ تعلیمی ماہریں اور دینی اسکالرز کی زیرِ نگرانی میں نجی اور سرکاری اسکولوں کےتعلیم کے نصاب کو اچھی طرح سے ترتیب دی جائے جو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی ، فلاحی ریا ست کی ثقافتی اقدار کا آئینہ دار ہو اورنجی اور سرکاری اسکول کی تعلیم میں کوئی فرق محسوس نہ ہو ، دونوں میں یکساں تعلیم دی جائے تاکہ سرکاری اور نجی اسکول کا فرق ختم ہو۔
Subscribe to:
Posts (Atom)


